سردار انور خان:مستحسن طرز سیاست کا ایک اور کامل نمونہ رخصت ہو ا: نثار کیانی


سابق صدر آزاد کشمیر میجر جنرل(ر) سردار محمد انور خان انتقال کر گئے۔ ضلع پونچھ تحصیل تھوراڑکی یونین کونسل ٹائیں کی مردم خیز دھرتی سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل (ر) سرداد محمد انور خان راولپنڈی میں رہائش پذیر تھے کافی عرصے سے بیمار تھے ۔ جمعرات کو ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور بالاخر اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔

سردار محمد انور خان 9 مئی 1945 کو ضلع پونچھ کےعلاقہ سملڑی ٹائیں میں پیدا ہوئے ۔ سردار ا نور خان نے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ پاک فوج میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے میجر جنرل ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ پاک فوج سے ریٹائر منٹ کے بعد 25 اگست 2001 سے 23 اگست 2006 تک آزاد کشمیر صدر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔

سردار انور خان نےپسماندگان میں اہلیہ سمیت تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں. ان کے بڑے بیٹے عرفان انور خان پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور امریکہ میں ایک کمپنی کے صدر ہیں، انجینئرنگ میں وہ گولڈ میڈل لسٹ ہیں. ان کے دوسرے بیٹے عمران انور خان پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں جبکہ عدنان انور خان پاک فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز ہیں. ایک بیٹی برطانیہ میں مقیم ہے جبکہ دوسری بیٹی فوجی فاونڈیشن ہسپتال راولپنڈی میں ڈاکٹر ہیں.

سردار انور خان نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی، وہ اپنے آبائی علاقے سملڑی ٹائیں سے روزانہ کئی کلومیٹر دور پیدل چل کر بوسہ گلہ تھوراڑ جاتے تھے. سردار انور کی والدہ محترمہ ان کی چھوٹی عمر میں ہی انتقال کر گئیں تھیں، جبکہ ان کے والد سردار یوسف خان پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی تھے جو انتہائی سادہ اور درویش منش شخصیت تھے.جب سردار انور خان صدر ریاست کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے تو سردار یوسف خان نے کہا کہ ڈر لگتا ہے کہ پتہ نہیں پرویز مشرف میرے بیٹے کو کسی آزمائش میں نہ ڈال دے.سردار یوسف خان کی زندگی میں ہی سملڑی ٹائیں نزد شبیر ہوٹل سردار انور خان کا گھر تیار ہوا جسے بعد ازاں صدارتی سیکرٹریٹ کا درجہ دیا گیا

. سردار انور خان نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول باغ سے پاس کیا اور اس وقت پنجاب بورڈ ٹاپ کیا. اورپھر 1966 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور فوج کی مشہور رجمنٹ آزاد کشمیررجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ، پاکستان نیوی اسٹاف کالج، کراچی اور نیشنل ڈیفنس کالج، راولپنڈی سے گریجویٹ تھے۔ انہوںنے یو ایس آرمی وار کالج پنسلوانیا میں بھی تعلیم حاصل کی اور وار اسٹڈیز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔35 سال کے ایک ممتاز آرمی کیرئیر کے دوران وہ پاک آرمی کی مختلف اہم کمانڈز اور تدریسی تقرریوں پر فائز رہے۔ انہوں نے دو انفنٹری بٹالین، ایک بریگیڈ اور بطور میجر جنرل دو انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی۔ ایک نوجوان افسر کے طور پر انہوں نے کشمیر سیکٹر میں 1971 کی جنگ میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی، سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں بطور انسٹرکٹر اور دسمبر 1996 سے دسمبر 1998 تک نیشنل ڈیفنس کالج اسلام آباد میں چیف انسٹرکٹر کے طور پر پاک فوج میں قائدانہ ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جولائی 2001 میں وائس چیف آف جنرل سٹاف (VCGS) کے طور پر فوج سے ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے اپریل 2003 تک آزاد کشمیر رجمنٹ کے کرنل کمانڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ پاکستان آرمی میں میجر جنرل انور خان کو ذہانت کی وجہ سے برین آف آرمی کا لقب سے پکارا جاتا تھا، جب وہ امریکہ میں ٹریننگ) کرنل سے بریگیڈیئر )کے سلسلے میں امریکہ گئے تو آپ کی ذہانت، ذہنی معیار اور علمی صلاحیتوں سے United States War Collegeکے افسران بھی معترف ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ آرمی وار کالج ریاستہائے متحدہ امریکہ نے پاکستان آرمی چیف کو خط میں لکھا کہ شاہد ہی اس آئی کیو لیول کا آفیسر آج تک نہ ہی امریکہ اورنہ ہی بیرون ملک سے کبھی ہمارے ہاں کورس کے لئے آیا ہو۔

پاکستان آرمی میں شاندار کردار کے حامل سردار محمد انور خان جب پاکستان آرمی سے ریٹائر ہوئے تو پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ان سے صدر آزاد کشمیر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے ذاتی خواہش کا اظہار کیا۔ سردار انور خان نے جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر کوئی دلچسپی نہیں لی چنانچہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے 17 دن تک مسلسل اظہار دلچسپی کے وہ آزادکشمیر میں احتساب کرنا چاہتے ہیں سردار انور خان نے یہ پیشکش قبول کر لی ۔میجر جنرل(ر) سردار محمد انور خان نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور 25 اگست 2001 کو آزادکشمیر کے17ویں صدر منتخب ہو گئے۔سردار انور خان نے اپنے دور صدارت میں ٹائیں میں ایک خوبصورت عمارت تعمیر کروائی جہاں ایک ماڈل سائنس کالج تعمیر کا قیام ہونا تھاماڈل سائنس کالج ٹائیں تو نہ بن سکا البتہ اس عمارت میںاب آرمی پبلک سکول قائم ہے جہاں علاقے کے درجنوں بچیاں بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں ۔ صدر آزاد کشمیر منتخب ہونے کے بعد انہوں آزاد کشمیر میں عوام کو اقتصادی ترقی گڈ گورننس میرٹ کی بالادستی شفافیت بلاتخصیص احتسابی عمل معیاری تعلیم عدلیہ میں ججز کی میرٹ پر تقرری ،پبلک سروس کمیشن کی تشکیل کواپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ۔اس ضمن میں انہوںنے اپنے دور صدارت میں عملی اقدامات بھی اٹھائے، صدر آزاد کشمیر کے بعض اقدامات سے اس وقت کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان اور ان کی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس میں اختلافات میں ہوئے

۔ جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی پر سردار انور کو اختلاف تھا ۔ ایک انٹرویو میں جب سردار انور خان سے پوچھا گیا کہ پرویز مشرف کے دور میں آپ صدر آزادکشمیر تھے،پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے پرآپ کو ان سے اختلاف ہو گیاوہ اختلاف کیا تھا؟ تو سردار انور خان جواب دیا کہ مجھے پرویز مشرف نے آزادکشمیر کا صدر بنایا تھا،اپنے چار نکاتی فارمولے کی روشنی میں کشمیر کے مستقبل کے حوالہ سے انہوں نے جب مجھ سے بات کی تو مجھے پوری رات نیند نہیں آئی،ساری رات گھومتا رہا،پھر میں نے اچانک ایک فیصلہ کیا کہ میں نے تقسیم کشمیر کو نہیں ماننا،اس کے بعد میں نے نماز پڑھی اور پھر پرسکون سو گیا۔اس کے بعد 5فروری 2006؁ء کو مظفرآباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایک بڑے جلسہ عام میں پرویز مشرف،سردار سکندر حیات وزیر اعظم آزادکشمیر،شیخ رشید احمد اور میں اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے، سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان،سردار عتیق احمد خان اسٹیج کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے،شاہ غلام قادر اسٹیج سیکرٹری تھے،مشرف کو امید تھی کہ میں ان کے چار نکاتی فارمولے کی حمایت کروں گا لیکن میں نے ان کے فارمولے کا پہلا پوائنٹ کہ فوجوں کا انخلاء کر دیں پر بات کی اور پھر اپنی بات ختم کر دی جس کے ردعمل میں پرویز مشرف کے چہرے پر غصے کے اثرات نمایاں تھے۔

میرے بعد سردار سکندر حیات اسٹیج سے اٹھے انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ صدر ریاست نے بات کر دی ہے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں،سردار سکندر حیات کا یہ کہنا تھا کہ پرویز مشرف پہلے سے زیادہ غصے میں آگئے اس کے بعد شیخ رشید نے اسٹیج پر آکر بات کی،بہرحال میری اس گفتگو کے بعد پرویز مشرف نے دلجمعی سے تقریر نہیں کی،ہم اسلام آباد آئے انہوں نے راستے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔میں نے کہا بھی کہ آپ نے مجھے صدر بنایا ہے میں گھر جانے کیلئے تیار ہوں۔سردار انور کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے دور میں لائن آف کنٹرول پر جو باڑ لگی میں نے اس کی بھی مخالفت کی،ہندوستان غیر مخصوص انداز میں لائن آف کنٹرول کو بارڈر کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا تھا جس پر میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔اصل بات یہ ہے کہ ڈائیلاگ،مذاکرات اور معاہدوں میں ہم سے نہ ادھر کوئی پوچھتا ہے اور نہ ہی اُدھر کوئی پوچھتا ہے۔میں اس کے حق میں ہوں کہ انٹرا کشمیر ڈائیلاگ ہونے چاہئیں لیکن اس میں ہمیں بھی اعتماد میں لیا جائے،افسوس نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم پر اعتبار نہیں کیا جا رہا۔کشمیر کے مستقبل کے حوالہ سے مختلف نظریات بالخصوص جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ جو خود مختار کشمیر کی حامی جماعت ہے کے حوالہ سے سردار انور کا کہنا تھا میرا نظریہ کشمیر بنے گاپاکستان ہے لیکن مجھے جے کے ایل ایف یا اس نظریے کی حامل دیگر سیاسی جماعتوں سے کوئی مسئلہ نہیں 1989کی تحریک جے کے ایل ایف نے شروع کی ان کا اپنا نظریہ ہے میرا اپنا نظریہ ہے ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

جب ان سے پوچھا گیا آپ کے نزدیک اندرونی مسلح مزاحمت ہی بہت ہے یا غیر ریاستی عسکری تنظیمیں بھی کشمیر میں مسلح مزاحمت کریں تو ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اندر کسی بھی قسم کی مزاحمت کشمیریوں کو خود کرنا چاہئے۔یہ تحریک اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب یہ کشمیریوں کے ہاتھ میں رہے گی۔کشمیر کی مختلف اکائیوں کی تحریک آزادی کشمیر میں شمولیت کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں صدر انور نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم جموں کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں،پنڈت بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔مقبوضہ ویلی میں پہلے سے مزاحمت موجود ہے‘آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے اندر ہمیں اپنی نئی نسل کو آزادی کی جنگ کیلئے تیار کرنا ہوگا،اگرتمام تر مکتبہ فکر یا ریجنز کے لوگ ہندوستان سے مقابلہ کرینگے تو کوئی صورت نہیں کہ ہندوستان کو یہ خطہ چھوڑنا نہ پڑے لیکن اس کیلئے اہل پاکستان کو ہم پر اعتماد کرنا ہوگا‘ہمیں سارے انڈے اقوام متحدہ کی باسکٹ میں نہیں ڈالنے چاہئیں یہ غلط حکمت عملی ہے ہمیں آج تک اقوام متحدہ سے کچھ نہیں ملا لیکن ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو چھوڑنا بھی نہیں چاہئیے،ان قراردادوں کو بنیاد بنا کر ہمیں ریاست کے تمام حصوں میں موجود تمام قوتوں،ہندوستان کے اندر موجود سکھ کمیونٹی،پاکستانی عوام،ترکی،ملائشیاء،چین اور دنیا بھر کے وہ ممالک جو ہماری سیاسی،سفارتی،اور اخلاقی حمایت کرتے ہیں ان کے ساتھ مل کر اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئیے،صدر انور کا یہ کہنا تھا کہ تقسیم کشمیر ہمیں کسی صورت بھی قبول نہیں۔ہماری قوم نے آزادی کیلئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی ہے۔ہم اپنے شہداء کے خون سے غداری نہیں کر سکتے۔

سابق صدر میجر جنرل (ر) سردار انور خان تمام عمرریاست جموں کشمیر کی وحدت کے علمبردار رہے۔جس کا اعتراف سابق امیر جماعت اسلامی اآزادکشمیر سردار اعجاز افضل خان نے راولاکوٹ کے ایک جلسہ عام میں کیا ، انہوں نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سردار انور خان کی تعریف کی اور کہا کہ پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے پر سردار انور خان نے پرویز مشرف کے سامنے مخالفت کی جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ پرویز مشرف جنہوں نے سردار انور خان کو آزادکشمیر کا صدر بنایا تھاان کے چار نکاتی فارمولے کے خلاف آزادکشمیر سے صرف سردار خالد ابراہیم خان مرحوم اور وہ ) سردار اعجاز افضل خان( مخالفت کرتے تھے ۔جبکہ آزادکشمیر میں اس عہد کا کوئی لیڈر ان کے سامنے بات نہیں کر سکتا تھا ۔جنرل مشرف جب معزول ہوئے تو ایک وفد نے سردار انور خان سے ملاقات کی اور کہا کہ آپ نے صدر آزادکشمیر ہوتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی آج بھی ان کے خلاف بات کریں

سردارانور خان نے جواب دیا کہ پرویز مشرف اس وقت کمزور پوزیشن میں ہیں اور یہ میری زندگی کا اصول نہیں کہ جب کوئی کمزور پوزیشن پر ہو تو اس کے خلاف بات کی جائے ۔سردار ا نور خان (78 سال) کی عمر میں جمعرات کو خالق حقیقی سے جاملے ،اللہ تعالٰی ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کے افکار و نظریات اور کردار کے اچھے اثرات ہمارے معاشرے پر جاری رکھے۔ آمین ۔ان کی رحلت کشمیر ی عوام کے لیے ایک عظیم سانحہ او بڑا نقصان ہے۔ پرانے بے لوث، دیانت دارانہ اور مستحسن طرز سیاست کا ایک اور کامل نمونہ آزادکشمیر سے رخصت ہو گیا۔ تحریک آزادی اور آزاد کشمیر کی عوام کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘آج بعد نماز جمعہ آرمی قبرستان ریس کورس گراؤنڈ راولپنڈی میں نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیںآرمی کے قبرستان میں سپر د خاک کیا جائے گا ۔